نامور خاتون کالم نگار اور (ن) لیگی رہنما حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تین سالہ کارکردگی کی گردان محض لفاظی نکلی، عوام جان گئے ہیں کہ 2017میں بھاری چمک کی بدولت صبح دوپہر شام، گلی گلی، نگر نگر، کنٹینروں پر، اخباروں میں، ریڈیو ٹی وی پر،

بینروں، ہورڈنگ بورڈز سے، آڈیو، وڈیو پیغامات، سوشل میڈیا سے نئی نسل پر تبدیلی کے حوالے سے جتنے بھی پروپیگنڈا بم پھوڑے گئے، وہ سب کے سب پھوکے نکلے، جتنے سبز باغ دکھائے گئے وہ سارےبھنگ کے نکلے، خوشخبریوں کے سارے خواب سراب نکلے، متوقع کامیابیوں کے حوالے سے تیاریوں پر مبنی وعدوں کے ڈھول پھیتی پھیتی ہو گئے ہیں۔

تین برسوں میں پنجاب کے پانچ چیف سیکرٹری اور سات آئی جی یوں بدلے گئے جیسے لوڈو کا کھیل، تبدیلی اصل میں تبادلوں اور کارکردگی کرپشن اسکینڈلوں کی صورت میں مرحلہ وار ظاہر ہورہی ہے جس بارے میں بیشتر حلقے یہ کہہ رہے تھے کہ کچھ خاص عناصر موجودہ حکومت کو پکڑ کر حکومت میں لائے ۔

ماضی میں بین الاقوامی حکومتی کارکردگی کی بنا پر پنجاب اسپیڈ کی اصطلاح کا متعارف ہونا پاکستان کیلئے انتہائی اعزاز کا باعث بنا تھا، جس کی گونج آج بھی چین سمیت سات سمندر پار سے آرہی ہے، اسی شہرت کی بنا پر متعدد حلقے میاں شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ سے دور رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں اور ان کی راہ میں جابجا کانٹے بچھائے جارہے ہیں۔

شریف خاندان میں اختلافات بارے بےپر کی اڑائی جا رہی ہے لیکن پھر بھی تین برسوں میں انہیں رتی بھر کامیابی بھی نہیں ملی ، مورخ کا قلم دو دھاری تلوار ہوتا ہے، ایک وقت میں وہ طاقت کے دیوتائوں پر مدح سرائی کے پھول برساتا رہتا ہے تاہم دوسری طرف وہ خفیہ ڈائری بھی مرتب کر رہا ہوتا ہے جس کا حرف حرف سچائی پر مبنی ہوتا ہے۔

مورخ قلم زد کررہا ہے کہ 3سالہ کارکردگی کا ڈھول تو یوں پیٹا گیا جیسے واقعی کوئی کارنامہ سرانجام دیا گیا ہو، ایک سے بڑھ ایک قریبی کو وزیر، مشیر کے قلمدان تھمائے گئے جیسے اندھا بانٹے ریوڑیاں۔ پی آئی اے کریش ہو گئی لیکن حاکم بدستور واہ واہ کے ورد میں مشغول ہیں، اچھی بھلی چلتی ریلوے کو پٹری سے اتارنے والے کو سنجیدہ وزارت دےکر کہا گیا، جا سمرن جا، جی لے اپنی زندگی۔ وزارتِ خزانہ آئی ایم ایف کے حوالے کرکے حماقتوں بھری لوڈو کھیلی گئی،

دن رات دعوے کئے گئے کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ترین سطح پر ہے، سب اشاریے مثبت ہیں لیکن کوئی یہ نہ بتا پایا کہ ڈالر 168روپے کا کیوں اور کیسے ہوا؟ کوئی یہ وضاحت نہیں کررہا کہ ملکی قرض بڑھ کر 39ہزار 827 ارب روپے کیوں کر ہوا؟ اگر اتنا بھاری قرض لیا گیا تو کہاں کہاں خرچ ہوا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے اختتام تک یہ قرض 63ہزار ارب کی خوفناک سطح پر جا سکتا ہے،

نواز حکومت کے اختتام پر یہ قرض 25ہزار 732ارب روپے تھا، جس تبدیلی کا وعدہ کیا گیا تھا وہ تبدیلی تو نہ آسکی البتہ میڈیا پر پروپیگنڈا مہم جاری ہے، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اتنی بڑی بڑی بونگیاں سنا رہے ہیں کہ بڑے تو بڑے بچے بھی منہ میں انگلیاں دبا کر رہ گئے ہیں۔ ایک مدح سرانے تو اتنی بڑی چھوڑی کہ مارچ 1940کو منٹو پارک میں جب قراردادِ پاکستان منظور کی گئی تو ان کے دادا وہیں کھڑے تھے

، وہ اس پر بھی نہیں رکا اور اس سے بھی بڑی چھوڑ دی کہ تحریکِ پاکستان میں قائداعظم کے ساتھ اس کے دادا نے قید بھی کاٹی۔یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، پہلا سوال یہ کہ کیا واقعی 81سال پہلے قرارداد پاکستان کی منظوری کے وقت اس کے دادا وہاں موجود تھے؟ اگر یہ درست ہے تو پھر ان کی عمر کیا تھی؟ پوتے صاحب کی موجودہ عمر 43سال ہے اور وہ قرار داد پاکستان کی منظوری کے 38سال بعد پیدا ہوا، یہاں دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ پوتے کے والد کی موجودہ عمر کتنی ہے؟ اگر سارا حساب یہاں لکھ دیا تو شکایت ہوگی،

بس اتنا ہی کافی ہے، اندازے لگانے والے خود ہی اندازہ لگا لیں کہ پوتے نے سچ بولا یا جھوٹ؟ ایمانداروں کی حکومت نے تیل میں 80ارب روپے کی دیہاڑی لگانے والے کو بحرین کی ٹکٹ تھما دی، 110ارب کی دیہاڑی لگانے والے کو بھی باہر بھجوانے کی تیاریاں جاری ہیں، شوگر کے مریضوں سے سستی انسولین، دل اور سرطان کے مریضوں سے مفت دوائیاں،

گردوں کے مریضوں سے مفت ڈائیلسز کی سہولیات چھیننے والوں نے ایسے ہیلتھ کار ڈتھما دیے جو کسی جگہ بھی قابلِ قبول نہیں، دوائیوں اور علاج سے محروم ہونے والے عوام دن رات گھروں میں اور اسپتالوں میں موت کے بستر پر خدا سے دعا گو ہیں کہ یا ہمیں اٹھا لے یا حشر برپا کردے۔

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں