قومی ٹیم کے فاسٹ بائولر شاہین آفریدی نے اپنی شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ایک بار پھر 5 شکار کیے ۔ شاہین نے پہلے ٹیسٹ میں 102 رنز کے عوض مجموعی طور پر 7 وکٹیں لیکر پاکستان کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ شاہین آفریدی تمام فارمیٹس میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں ۔

اس نے اپنے ڈیبیو کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں 83 وکٹیں حاصل کی ہیں جو اس عرصے کے دوران کسی ایشیائی باؤلر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔ ہندوستانی سپنر روی چندرن ایشون نے بھی اسی عرصے میں 83 وکٹیں اپنے نام کیں۔ شاہین آفریدی کے ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کے بعد سے کھیل کے طویل ترین فارمیٹ میں صرف تین بولرز کے پاس زیادہ وکٹیں ہیں۔

نیوزی لینڈ کے تیز گیند باز ٹم ساؤتھی 20 میچز میں 21.81 کی اوسط سے 102 ، آسٹریلیا کے نئے ٹیسٹ کپتان اور پیسر پیٹ کمنز 20 میچز میں 20.10 کی اوسط سے 98 ، تجربہ کار انگلش فاسٹ باؤلر سٹورٹ براڈ دسمبر 2018ء سے ٹیسٹ کرکٹ میں 25 میچز میں 22.14 کی اوسط سے 91 وکٹیں لے کرٹاپ تھری میں شامل ہیں۔

شاہین آفریدی 33 اننگز میں 24.34 کی اوسط سے 83 وکٹیں حاصل کرکے اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں ۔ انہوں نے اپنے مختصر ٹیسٹ کیریئر میں اب تک 4 مرتبہ 5 وکٹیں اور ایک مرتبہ 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ بھارتی سپنر روی چندرن ایشون دسمبر 2018ء سے اب تک 16 میچز میں 20.60 کی اوسط سے 83 ،

ہندوستانی پیسر جسپریت بمراہ 18 میچز میں 21.72 کی اوسط سے 73، محمد شامی 18 میچز میں 23 کی اوسط سے 67 جبکہ سری لنکن سپنر لاستھ ایمبولڈینیا 13میچز میں 35.20 کی اوسط سے 55 شکار کرچکے ہیں

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں